اس صفحے پر
دکان کا حساب رکھنا ہر دکاندار کے لیے ضروری ہے۔ ہر دکاندار جانتا ہے کہ دکان چلانا صرف سامان بیچنا نہیں۔ اصل کام ہے حساب رکھنا: کتنا بیچا، کتنا خریدا، کس نے اُدھار لیا، کتنے خرچے ہوئے اور آخر میں منافع کتنا بچا۔ بہت سی دکانیں اچھی سیل کرتی ہیں لیکن پھر بھی مہینے کے آخر میں پیسے کم لگتے ہیں، کیونکہ حساب ٹھیک طرح نہیں رکھا گیا۔
اس گائیڈ میں ہم آسان اردو میں سمجھائیں گے کہ دکان کا حساب کیسے رکھیں، چاہے آپ رجسٹر استعمال کریں، Excel یا کوئی دکان کا سافٹ ویئر۔

دکان کا حساب کیوں ضروری ہے؟
- اصل منافع پتہ چلتا ہے: گلّہ گننے سے صرف نقد پتہ چلتا ہے، منافع نہیں۔
- اُدھار واپس آتا ہے: لکھا ہوا اُدھار بھولتا نہیں۔
- اسٹاک کا پتہ رہتا ہے: کیا ختم ہو رہا ہے اور کیا پڑا ہوا ہے۔
- چوری اور غلطی پکڑی جاتی ہے: جب ریکارڈ ہو تو فرق فوراً نظر آتا ہے۔
- بہتر فیصلے: کیا زیادہ منگوانا ہے، کیا بند کرنا ہے۔
حساب کے 5 حصے
دکان کا پورا حساب پانچ چیزوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر یہ پانچ ٹھیک ہیں تو آپ کا حساب ٹھیک ہے۔
1۔ روز کی سیل (فروخت)
ہر بل لکھیں، چاہے چھوٹا ہو یا بڑا۔ دن کے آخر میں کل سیل نکالیں اور گلّے کے نقد سے ملائیں۔ اگر نقد کم یا زیادہ ہے تو اسی دن وجہ ڈھونڈیں، اگلے ہفتے یاد نہیں رہے گا۔
مشورہ: نقد سیل، اُدھار سیل اور آن لائن/بینک میں آنے والی رقم الگ الگ لکھیں۔ اس سے گلّہ ملانا آسان ہو جاتا ہے۔
2۔ خریداری
سپلائر سے جو بھی سامان آئے، اس کا بل سنبھال کر رکھیں اور اسی دن ریکارڈ کریں: کیا آیا، کتنا آیا، کس ریٹ پر۔ سامان لینے سے پہلے بل سے ملا لیں کہ پورا آیا ہے یا نہیں۔
سپلائر کو کتنے پیسے دینے ہیں، یہ بھی لکھیں۔ بہت سے دکاندار اپنا اُدھار تو یاد رکھتے ہیں لیکن سپلائر کا حساب بھول جاتے ہیں۔
3۔ اُدھار (کھاتہ)
اُدھار پاکستانی دکان کی حقیقت ہے۔ مسئلہ اُدھار دینا نہیں، مسئلہ اُدھار بھولنا ہے۔ ہر گاہک کا الگ کھاتہ رکھیں: تاریخ، کیا لیا، کتنے کا لیا، اور جب پیسے دے تو وہ بھی لکھیں۔ اس طرح ہر وقت پتہ ہوگا کہ کس پر کتنا بقایا ہے۔
گاہک کو وقت پر اس کا حساب دکھا دیں۔ صاف حساب سے جھگڑا نہیں ہوتا اور گاہک کا بھروسہ بڑھتا ہے۔ ڈیجیٹل کھاتہ یہ کام بہت آسان بنا دیتا ہے؛ مزید پڑھیں: ڈیجیٹل کھاتہ اور اُدھار مینجمنٹ۔
4۔ خرچے
کرایہ، بجلی کا بل، عملے کی تنخواہ، ٹرانسپورٹ، چائے پانی، سب خرچے لکھیں۔ اکثر دکاندار صرف سامان کی قیمت اور سیل کا فرق دیکھ کر منافع سمجھ لیتے ہیں، لیکن خرچے نکال کر ہی اصل منافع پتہ چلتا ہے۔
ایک اور اہم بات: گھر کے خرچے دکان کے گلّے سے الگ رکھیں۔ اگر گھر کے لیے پیسے نکالتے ہیں تو انہیں بھی “مالک نے نکالے” کے نام سے لکھیں۔
5۔ اسٹاک
اسٹاک آپ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ سال میں کم از کم ایک یا دو بار پورا اسٹاک گنیں، اور ہر ہفتے کچھ چیزیں چیک کریں۔ جو چیزیں جلدی بکتی ہیں ان کا کم از کم اسٹاک طے کریں، اور جب اس سے نیچے جائے تو آرڈر کریں۔
منافع کیسے نکالیں؟
آسان فارمولا:
منافع = کل سیل − بیچے گئے سامان کی خرید قیمت − خرچے
مثال کے طور پر (صرف سمجھنے کے لیے): اگر اس مہینے آپ نے جو سامان بیچا اس کی خرید قیمت سیل سے کم تھی، تو وہ فرق آپ کا “مجموعی منافع” ہے۔ اس میں سے کرایہ، بجلی، تنخواہ اور باقی خرچے نکال دیں، جو بچے وہ “خالص منافع” ہے۔ یاد رکھیں کہ اُدھار پر بیچا گیا سامان بھی سیل میں شامل ہے، لیکن اس کے پیسے ابھی گلّے میں نہیں آئے۔
رجسٹر، Excel یا سافٹ ویئر؟
رجسٹر / کاپی
شروع میں اور بہت چھوٹی دکان کے لیے ٹھیک ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک سے زیادہ رجسٹر (سیل، اُدھار، خریداری) آپس میں نہیں ملتے، صفحے کھو جاتے ہیں اور حساب نکالنے میں گھنٹے لگتے ہیں۔
Excel
رجسٹر سے بہتر ہے، فارمولوں سے ٹوٹل خود بن جاتا ہے۔ لیکن ہر اندراج ہاتھ سے کرنا پڑتا ہے، اور کاؤنٹر پر رش میں یہ مشکل ہے۔ غلط فارمولا یا ڈیلیٹ ہوئی فائل بڑا نقصان کر سکتی ہے۔
دکان کا سافٹ ویئر (POS)
سافٹ ویئر میں جب آپ بل بناتے ہیں تو سیل ریکارڈ ہوتی ہے، اسٹاک خود کم ہوتا ہے، اور اگر اُدھار ہے تو گاہک کے کھاتے میں چلا جاتا ہے۔ یعنی ایک کام سے تین حساب اپ ڈیٹ۔ دن کے آخر میں رپورٹ خود تیار ہوتی ہے۔
theDukanPOS ایک کلاؤڈ دکان کا سافٹ ویئر ہے جس میں بلنگ، اسٹاک، کھاتہ، رپورٹس اور بارکوڈ پرنٹنگ شامل ہیں، اور یہ اردو میں بھی چلتا ہے۔ موبائل ایپ سے گھر بیٹھے دکان کا حساب دیکھ سکتے ہیں۔ قیمت 2,500 روپے ماہانہ سے شروع ہوتی ہے اور 15 دن مفت استعمال کر سکتے ہیں۔
روز، ہفتے اور مہینے کا معمول
- روز: ہر بل ریکارڈ کریں، اُدھار لکھیں، خریداری درج کریں، شام کو گلّہ ملائیں۔
- ہر ہفتہ: کچھ چیزوں کا اسٹاک گنیں، کم ہونے والا سامان آرڈر کریں، اُدھار والوں کو یاد دہانی کرائیں۔
- ہر مہینہ: کل سیل، خرچے اور منافع نکالیں؛ سپلائر کا حساب صاف کریں؛ نہ بکنے والا سامان دیکھیں۔
عملہ اور گلّہ
اگر دکان پر عملہ کام کرتا ہے تو ہر شفٹ کے شروع اور آخر میں گلّہ گنیں اور لکھیں۔ ہر کارکن یا کیشیئر کی ذمہ داری صاف ہونی چاہیے۔ سافٹ ویئر میں ہر ملازم کا الگ لاگ ان ہو تو پتہ رہتا ہے کہ کس نے کون سا بل بنایا۔ اس سے غلطی اور چوری دونوں کم ہوتی ہیں، اور ایماندار عملے پر بھی شک نہیں ہوتا۔
سپلائر کا حساب
جس طرح گاہک آپ کے اُدھار دار ہوتے ہیں، اسی طرح آپ سپلائر کے اُدھار دار ہوتے ہیں۔ ہر سپلائر کا الگ کھاتہ رکھیں: کب کتنا سامان آیا، کتنی ادائیگی کی، اور کتنا باقی ہے۔ مہینے کے آخر میں سپلائر کے ساتھ حساب ملا لیں۔ اس سے جھگڑے نہیں ہوتے اور سپلائر آپ پر بھروسہ کرتا ہے، جو آگے اچھے ریٹ اور اُدھار کی سہولت دلاتا ہے۔
عام غلطیاں
- چھوٹی سیل لکھنا بھول جانا۔
- گھر کے خرچے دکان کے گلّے سے بغیر لکھے نکالنا۔
- اُدھار زبانی یاد رکھنا۔
- سپلائر کے بل سنبھال کر نہ رکھنا۔
- صرف گلّے کا نقد دیکھ کر منافع سمجھنا۔
حساب کے لیے ضروری سوالات
ہر مہینے خود سے یہ سوال پوچھیں: (1) اس مہینے کل سیل کتنی ہوئی؟ (2) اس میں سے کتنی نقد اور کتنی اُدھار تھی؟ (3) کتنا اُدھار واپس آیا اور کتنا ابھی باقی ہے؟ (4) سپلائر کو کتنا دینا ہے؟ (5) کون سی چیزیں سب سے زیادہ بکیں اور کون سی بالکل نہیں بکیں؟ (6) خرچے نکال کر اصل منافع کتنا بچا؟ اگر ان سوالوں کے جواب آپ 10 منٹ میں نکال سکتے ہیں تو آپ کا حساب ٹھیک چل رہا ہے۔ اگر گھنٹے لگتے ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ طریقہ بہتر کیا جائے۔
نتیجہ
دکان کا حساب رکھنا مشکل نہیں، بس روز کی عادت چاہیے۔ پانچ چیزیں یاد رکھیں: سیل، خریداری، اُدھار، خرچے اور اسٹاک۔ انہیں روز ریکارڈ کریں اور مہینے میں ایک بار پورا حساب دیکھیں۔ اگر رجسٹر سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو theDukanPOS کو 15 دن مفت آزمائیں، یا واٹس ایپ پر سوال پوچھیں: 0312 7032292
مزید پڑھیں: کریانہ اسٹور سافٹ ویئر اور قسطوں کے کاروبار کی گائیڈ۔
اپنی دکان theDukanPOS پر چلائیں
بلنگ، اسٹاک، کھاتہ اور قسطوں کا حساب ایک کلاؤڈ POS میں۔ 15 دن مفت ٹرائل، پلان 2,500 روپے ماہانہ سے۔


